بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ یہ تحریر ان دنوں کی روداد ہے جب بورس یلتسین کے وزیر خارجہ آندرے کوزیریف (Andrei Kozyrev) نے قومی مفادات کو واشنگٹن کی مسکراہٹ پر قربان کر دیا، نیٹو نے تمام تحریری اور زبانی وعدوں کے برعکس مشرق کی طرف چھلانگ لگائی، سرخ فوج کے ٹینک گروزنی کی گلیوں میں مغرب کے مہمل پیروکاروں کے ہاتھوں راکھ کا ڈھیر بن گئے، اور ماسکو کے نم زدہ اور مرطوب تہہ خانوں میں ایک مکتبِۂ فکر نے انگڑائی لی جس نے قسم کھائی کہ اس 'مغرب کی طرف کے، پشت میں لگے خنجر' کا بدلہ مغربی تہذیب سے ضرور لے گا۔
چوتھا اور آخری حصہ:
نیٹو کے فریب کا خنجر؛ جیمز بیکر کی عہد شکنی اور روس کے محاصرے کا آغاز
ماسکو کے سفارت کاروں کی ذلت آمیز انفعالیت (اور بے عملی) کے ساتھ ساتھ، بیسویں صدی کا سب سے بڑا اسٹراٹیجک دھوکہ ہؤا: نیٹو کی مشرق کی طرف توسیع۔
سنہ 1990 میں، دو جرمنیوں کے اتحاد کے حساس مذاکرات کے دوران، امریکہ کے اس وقت کے وزیر خارجہ جیمز بیکر (James Baker) نے میخائل گورباچوف سے بار بار ملاقاتوں میں صاف طور پر یہ تاریخی جملہ کہا تھا کہ "نیٹو کا دائرہِ اختیار اور افواج مشرق کی طرف ایک انچ بھی نہیں بڑھیں گی (Not one inch eastward)"۔ جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے رہنماؤں نے بھی اسی طرح کی ضمانتیں دی تھیں۔ ماسکو نے ان اخلاقی وعدوں اور زبانی معاہدوں پر اعتماد کرتے ہوئے سرخ فوج کے لاکھوں جوان اور ہزاروں ٹینک مشرقی جرمنی، پولینڈ، ہنگری اور چیکوسلواکیہ سے واپس بلا لئے!
لیکن زوال کے مستحکم ہوتے ہی واشنگٹن نے نقاب اتار دیا۔ بل کلنٹن کے دور میں وائٹ ہاؤس نے باضابطہ طور پر مشرقی یورپی ممالک اور ماسکو کے روایتی پچھواڑے کو نیٹو میں شامل کرنے کے منصوبے پر کام شروع کیا۔ یلتسین کے کمزور احتجاج پر مغرب کا جواب چبھنے والا اور اذیت ناک تھا: "نیٹو کی عدم توسیع کے بارے میں کوئی تحریری معاہدہ نہیں ہے؛ بلاک بندی کا دور ختم ہو چکا ہے اور ہر ملک کو یہ حق ہے کہ وہ کسی معاہدے کا رکن بنے"۔ [[[[[[[
روس کے جرنیلوں اور تزویراتی مفکرین کو ملنے والا پیغام ہلا دینے والا مگر بالکل دو ٹوک تھا: "مغرب نہ روس میں جمہوریت کا خواہاں تھا اور نہ برابر کا شراکت دار؛ "نیٹو" سوویت مخالف معاہدہ نہیں تھا، بلکہ ایک "روس مخالف" اتحاد تھا جو کمیونزم کی موت کے باوجود آرتھوڈاکس تہذیب کا محاصرہ، سرحدوں پر ریڈار اڈوں کی تعمیر اور ماسکو کے جیوپولیٹیکل وزن کو طاقت کے توازن سے ہمیشہ کے لئے مٹا دینے کا خواہاں تھا۔ "غداری اور پیٹھ میں خنجر لگنے" کا احساس پورے روسی معاشرے پر چھا گیا۔"
اس طرح، 1990 کی دہائی میں روس کی تحقیر و تذلیل صرف ایک سپر پاور کے زوال، تاریخی علاقوں کے ضیاع یا مغرب کے سامنے سفارتی پسپائی تک محدود نہیں رہا۔ ان برسوں میں جو کچھ تشکیل پایا وہ ایک کثیر پرتوں پر مشتمل بحران تھا جو بیرونِ ملک لاکھوں روسی نسل کے لوگوں کی قسمت سے شروع ہؤا، اٹلانٹسزم پر مبنی خارجہ پالیسی اور روس کے قومی مفادات کو نظر انداز کرنے کے عمل کے ساتھ، جاری رہا اور نیٹو کی مشرق کی طرف توسیع کے ساتھ اسٹراٹیجک محاصرے کے احساس پر منتج ہؤا۔
لیکن بیرونی میدان میں یہ تحقیر و تذلیل کا صرف ایک رخ تھا۔ روس کے اندر بھی وہ فوج ـ جو کبھی سوویت طاقت اور مضبوطی کی علامت سمجھی جاتی تھی، ـ ایک ایسے تجربے کے دہانے پر پہنچ گئی جو اس کی ساختی کمزوری اور حوصلے کے خاتمے کو دنیا کی آنکھوں کے سامنے آشکار کر دیتا تھا۔
روس بحران کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے کے دہانے پر تھا؛ ایسا مرحلہ جس میں نہ صرف اس کی بین الاقوامی حیثیت، بلکہ ریاست کی اپنی طاقت اور علاقائی سالمیت کو برقرار رکھنے کی صلاحیت بھی آزمائش میں ڈالی جا رہی تھی؛ سرخ فوج کے ٹینک ـ مغرب کے مہمل پیروکاروں کی مداخلت سے ـ گروزنی کی گلیوں میں راکھ کا ڈھیر بن گئے تھے، جبکہ دوسری طرف سے ماسکو کے مرطوب تہہ خانوں سے ایک مکتبِۂ فکر نے جنم لیا جس نے قسم کھائی کہ اس 'پشت میں خنجر' کا بدلہ مغربی تہذیب سے ضرور لے گا۔ ولادیمیر پوتن ـ اس مکتبِ فکر کے نمائندے کے طور پر، ـ یلتسین کے دور کے آخر میں وزیرِ اعظم منتخب ہونے کے بعد، کام پر لگ گئے اور اپنی ٹیم کے ساتھ روس کی طاقت کی بحالی کی طرف حرکت کا آغاز کیا، اور آج تقریباً تین دہائیاں گذرنے کے بعد، روس مغرب سے انتقام کی مشین بن چکا ہے اور اس نے پورے یورپ اور امریکہ کو گھٹن سے دوچار کر دیا ہے..."
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: مہدی سیف تبریزی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ